"جب تک وردی کو سزا کا خوف نہیں ہوگا، تب تک شہری کو انصاف کا یقین نہیں ہوگا
"جب تک وردی کو سزا کا خوف نہیں ہوگا، تب تک شہری کو انصاف کا یقین نہیں ہوگا۔"
پاکستان کے فوجداری نظامِ انصاف میں اختیارات کا ناجائز استعمال اور احتساب کا فقدان ایک سنگین المیہ بن چکا ہے، جس کا واضح ثبوت فراہم کردہ FIR میں بھی دیکھا جا سکتا ہے ... اگرچہ۔۔
The Lahore High Court (LHC) officially struck down Section 124A (Sedition) of the Pakistan Penal Code, declaring it unconstitutional and a violation of the fundamental right to free speech guaranteed under Article 19.
لیکن میں غلط کر رہا ہوں یا صحیح، مجھے کون پوچھے گا؟ کسی کیس کا ٹرائل مکمل ہونے یا سچ اور جھوٹ کا فیصلہ ہونے میں بھی تو سالوں لگ جائیں گے۔ اس طویل عرصے کے بعد سب بھول جائیں گے کہ میں نے کسی کے ساتھ زیادتی کی تھی اور مجھے بھی اس کی سزا ملنی چاہیے! اس نظام میں مجال ہے کہ کوئی کورٹ یا جج کسی تفتیشی افسر کو اختیارات کے ناجائز استعمال پر ذمہ دار ٹھہرا سکے۔ بس ایک ایف آئی آر (FIR) کاٹو اور کسی بھی پاکستانی شہری کو پکڑ کر جیل میں بند کر دو۔ پاکستان کے فوجداری نظامِ انصاف (Criminal Justice System) میں آج تک اسی جابرانہ مائنڈ سیٹ کو پروان چڑھایا گیا ہے اور اس کے سوا یہاں کچھ بھی نہیں۔ یہاں جھوٹی یا بدنیتی پر مبنی ایف آئی آر درج کرنے والے کسی بھی اہلکار یا بااثر شخص کے لیے نہ تو کوئی سزا ہے، اور نہ ہی کسی مظلوم کے لیے کوئی جزا؛ اور یہی وجہ ہے کہ یہاں سچے مقدمات میں بھی حقیقی مجرموں کو سزا نہیں ہو پاتی۔
اسی جابرانہ مائنڈ سیٹ کو پروان چڑھانے کے پیشِ نظر شاید یہ ایف آئی آر (FIR) بھی درج کی گئی ہے۔ اس ایف آئی آر کے مندرجات سردست خود شکایت کنندہ، محمد افضل (اے ایس آئی - اسسٹنٹ سب انسپکٹر آف پولیس) کو ہی کٹہرے میں کھڑا کر رہے ہیں؛ لیکن مروجہ رواج کے مطابق چونکہ صرف ایک پاکستانی شہری کو سلاخوں کے پیچھے بند کرنا مقصود تھا، سو وہ پورا ہو گیا۔
"پنجاب پولیس، سٹی تھانہ خانپور، رحیم یار خان (RYK)؛ ایف آئی آر نمبر: 644/26، تاریخِ رپورٹ: 21 جون 2026۔ شکایت کنندہ: محمد افضل (اے ایس آئی - اسسٹنٹ سب انسپکٹر آف پولیس)۔ مندرجات کچھ یوں ہیں کہ اے ایس آئی محمد افضل پولیس پارٹی کے ہمراہ بلدیہ چوک خانپور کے قریب جرائم کی روک تھام کے لیے گشت پر موجود تھے۔ انہوں نے دیکھا کہ ایک ہوٹل پر کچھ لوگ جمع ہیں اور موبائل فون پر کوئی ویڈیو دیکھ رہے ہیں، جس کی وجہ سے ان میں کافی غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ جب پولیس نے موقع پر پہنچ کر پڑتال کی، تو معلوم ہوا کہ ایک ٹک ٹاک آئی ڈی (wqaswqaswqaswqas-03004275909) پر ایک ویڈیو چل رہی ہے، جس میں ایک شخص حکومتی عہدیداروں اور ریاستی شخصیات کے خلاف انتہائی نازیبا، گندی اور غلیظ زبان استعمال کر رہا ہے۔ موقع پر کی جانے والی تفتیش سے ویڈیو میں بولنے والے شخص کی شناخت حضور بخش کے نام سے ہوئی۔ پولیس نے اس ویڈیو کو بطور ثبوت یو ایس بی (USB) میں ڈاؤن لوڈ کر کے قبضے میں لے لیا، اور سوشل میڈیا پر حکومتی عہدیداروں کے خلاف نفرت انگیز مواد پھیلانے اور گالی گلوچ کرنے کے جرم میں ملزم کے خلاف یہ مقدمہ درج کر لیا۔
To transform justice from a distant ideal into reality, Pakistan's Code of Criminal Procedure (CrPC) and Police Order 2002 require a strict legislative amendment introducing a "Reverse Liability" clause for wrongful arrests.
Under this reform, the moment a trial court acquits an accused due to a lack of evidence, fabricated facts, or an unconstitutional law;
✔️the court must be legally mandated to automatically convert that acquittal into a criminal show-cause notice against the Investigating Officer (IO) and the complainant.
✔️Furthermore, if the court determines that the arrest was made in bad faith or without basic due diligence, the judge must be empowered to award immediate financial compensation to the victim, deducted directly from the officer's salary and pension, while simultaneously sentencing the arresting officer under Section 220 of the Pakistan Penal Code (PPC) for unlawful confinement, a charge carrying up to seven years of imprisonment that is currently rarely enforced.
This proposal directly reflects the exact grievance of millions of Pakistanis and may serve as a reminder that true judicial reform cannot be achieved by merely updating digital police dockets, it will only come when those who misuse state authority fear the law just as much as an ordinary citizen does.
https://www.facebook.com/share/p/1Cghp4Hf2A/

Comments
Post a Comment