ایک جملہ یا مقدس الفاظ یعنی..."پولیس یا دانستہ طور پر اختیارات کا ناجائز استعمال کرنے والا سرکاری افسر، قانون کے مطابق کارروائی کرے" (Act in accordance with law۔
ہائی کورٹ کے روزمرہ کے فیصلوں پر نظر دوڑائیں تو ایک جملہ یا مقدس الفاظ یکے بعد دیگرے، بار بار ہر دوسری رٹ پٹیشن کے اختتام پر نظر آتا ہے: یعنی"پولیس یا دانستہ طور پر اختیارات کا ناجائز استعمال کرنے والے سرکاری افسر قانون کے مطابق کارروائی کرے" (Act in accordance with law)۔
جیسے پولیس یا اس سرکاری افسر کو پہلے علم نہیں تھا کہ انھیں قانون کے مطابق کام کرنا ہوتا ہے۔۔۔۔۔
اسی طرح، سرکاری محکموں میں جعلی بھرتیوں کے کیسز نمٹاتے وقت بھی ایسے ہی روایتی اور مبہم فیصلے تواتر کے ساتھ کئے جاتے ہیں، جس کی وجہ سے یہ لامتناہی سلسلہ ختم ہونے کے بجائے عدالتی نظام کا مستقل حصہ بن چکا ہے۔
عوامی رائے میں، جب تک دانستہ طور پر اختیارات کا ناجائز استعمال کرنے والے سرکاری افسران پر ذاتی حیثیت (Personal Capacity) میں بھاری جرمانہ، ہرجانہ یا سخت تادیبی سزا لاگو کرنے کے رواج کو فروغ نہیں دیا جائے گا، تب تک ایسے روایتی احکامات سے کوئی فرق نہیں پڑنے والا۔
عوام کے ساتھ ہونے والی لاکھوں زیادتیوں میں سے گنتی کے چند معاملات ہی عدالتوں تک پہنچ پاتے ہیں، لیکن وہاں بھی پولیس اور دانستہ طور پر اختیارات کا ناجائز استعمال کرنے والے سرکاری افسران کو "قانون کے مطابق کام کرنے" کی محض 'ہومیوپیتھک' قسم کی سرزنش کر کے چھوڑ دیا جاتا ہے۔
ایک سینئر قانون دان خواجہ نوید احمد کی رائے کے مطابق "جب تک 'قانون کے مطابق کام کرو' کی یہ ہومیوپیتھک سرزنش، قانون شکن افسر کی ذاتی حیثیت (Personal Capacity) میں جیل اور بھاری جرمانے کی 'سرجری' میں تبدیل نہیں ہوگی، تب تک عام آدمی کے لیے عدالتی احکامات ردی کے کاغذ سے زیادہ اہمیت نہیں رکھیں گے۔"
اگر عدالتوں میں سالہا سال سے پولیس کے خلاف دائر رٹ پٹیشنز اور ان کے فیصلوں کا ڈیٹا اکٹھا کیا جائے، تو یہ حقیقت سامنے آئے گی کہ ایک ہی ایس ایچ او (SHO) کو ایک ہی دن میں مختلف بینچوں یا عدالتوں سے ایسے کئی احکامات جاری ہوئے ہوتے ہیں۔ بدقسمتی سے پراسیکیوشن نے بھی کبھی عدالت کی یہ معاونت نہیں کی کہ مذکورہ افسر کو پہلے بھی کئی بار ایسی ہدایات جاری کی جا چکی ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ پولیس اور دانستہ طور پر اختیارات کا ناجائز استعمال کرنے والے سرکاری افسران ایسے رٹ آرڈرز کی کاپیوں کو ردی کے کاغذ سے زیادہ اہمیت نہیں دیتی اور اپنے روایتی رنگ ڈھنگ میں مصروف رہتی ہے، جبکہ دوسری طرف عدالتوں میں بھاری بھرکم "ڈسپوزل آرڈرز" (Disposal Orders) کے ذریعے کیسز نمٹانے کے پوائنٹس بنتے رہتے ہیں۔
آئین کی حکمرانی اور ایک عظیم پاکستان کا خواب اسی وقت سچ ہو سکتا ہے جب عدلیہ محض روایتی احکامات کے پیچھے چھپنے والے بدنیتی پر مبنی چہروں کو بے نقاب کرے۔ جیسا کہ قانون کا ابدی اصول ہے کہ "دھوکہ دہی اور قانون کبھی اکٹھے نہیں رہ سکتے" (Fraus et jus nunquam cohabitant)؛ لہٰذا اگر کوئی سرکاری افسر یا پولیس اہلکار قانون کے مقدس لبادے میں چھپ کر عام آدمی کے خلاف بدنیتی (Malafide) کے تحت کام کر رہا ہو اور عدالت کے کٹہرے میں کھڑے ہو کر یہ دعویٰ کرے کہ "میں نے تو صرف قانون کے مطابق کارروائی کی"، تو عدالت پر یہ آئینی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس کے پیچھے چھپے دھوکے کو ننگا کرے اور اسے سرکاری تحفظ دینے کے بجائے ذاتی حیثیت (Personal Capacity) میں سخت عبرتناک سزا اور بھاری جرمانے کا نشانہ بنائے۔ جب تک یہ سنگِ میل عبور نہیں ہوگا، تب تک انصاف محض کاغذوں تک محدود رہے گا اور زمینی حقائق کبھی تبدیل نہیں ہوں گے۔
By: Farhan Khaliq Anwer
Advocate Supreme Court
duaapk@hotmail.com

Comments
Post a Comment