"Our universities trust their degrees so much that they charge you a fee just to confirm they weren't lying the first time they signed it."
📎📎⚖️👍💤
Issue of law, law fields, the Bureaucracy of Seals, Pakistan’s Education vs. Administration & Great Pakistan.....
"Our universities trust their degrees so much that they charge you a fee just to confirm they weren't lying the first time they signed it."
پاکستان کے موجودہ تعلیمی اور انتظامی نظام کی یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ایک طالب علم برسوں کی محنت سے ڈگری حاصل تو کر لیتا ہے، لیکن اصل آزمائش اس کے بعد شروع ہوتی ہے جب اسے اپنی ہی اسناد کی "صداقت" ثابت کرنے کے لیے در در کے چکر کاٹنے پڑتے ہیں۔
یونیورسٹی کی سطح پر تعلیم کی تکمیل محض ایک علمی سفر کا اختتام نہیں بلکہ ایک طویل اور صبر آزما انتظامی جنگ کا آغاز ہے۔ ایک طالب علم بھاری فیسوں کی ادائیگی اور برسوں کے انتظار کے بعد جب وہ ڈگری وصول کرتا ہے جس پر کنٹرولر امتحانات اور وائس چانسلر کے باقاعدہ دستخط ثبت ہوتے ہیں، تو اسے گمان ہوتا ہے کہ وہ اب پیشہ ورانہ دنیا کے لیے تیار ہے۔ مگر ستم ظریفی دیکھیے کہ اسی سرکاری دستاویز کو دوبارہ اسی ادارے سے "تصدیق" کروانے کے لیے پھر سے فیس ادا کرنی پڑتی ہے۔ یہ عمل اس بات کا خاموش اعتراف ہے کہ ادارے کو اپنے ہی جاری کردہ کاغذ پر بھروسہ نہیں—جو کہ ڈیجیٹل دور میں کسی مضحکہ خیز لطیفے سے کم نہیں۔
تصدیق کی یہ خجالت صرف یونیورسٹی تک محدود نہیں رہتی، بلکہ ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) سے لے کر وزارتِ خارجہ (MOFA) تک ایک لامتناہی سلسلہ ہے۔ طالب علم کو یہ ثابت کرنے کے لیے کہ اس کی یونیورسٹی الحاق شدہ ہے اور اس کی مہریں اصلی ہیں، وقت اور پیسے کا بے دریغ زیاں کرنا پڑتا ہے۔ اس عمل کے دوران اسے اکثر ایسے اہلکاروں کے معاندانہ رویے اور تلخ کلامی کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے جن کی اپنی پیشہ ورانہ اہلیت اکثر سوالیہ نشان ہوتی ہے۔ یہ فرسودہ نظام اس نوجوان کے لیے شدید ذہنی کوفت کا باعث بنتا ہے جو پہلے ہی معاشرے میں اپنی جگہ بنانے کی جدوجہد کر رہا ہے۔
انٹرنیٹ اور بلاک چین (Blockchain) جیسی ٹیکنالوجی کے اس دور میں اس بوسیدہ نظام کو برقرار رکھنا قومی ترقی کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ڈگری، مارکس شیٹ اور ٹرانسکرپٹ کو الگ الگ خانوں میں بانٹنے کے بجائے ایک ہی "جامع ڈیجیٹل دستاویز" کے طور پر متعارف کروایا جائے۔ ایک مرکزی آن لائن پورٹل یا "کیو آر کوڈ" (QR Code) سسٹم کے ذریعے ڈگری کی فوری تصدیق ممکن بنائی جا سکتی ہے۔ اس سے نہ صرف کاغذات کا بوجھ کم ہوگا بلکہ ملک کا قیمتی انسانی سرمایہ سرکاری دفاتر کی فائلوں اور مہروں کی نذر ہونے سے بچ جائے گا۔
مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہماری مراعات یافتہ اشرافیہ اور بیوروکریسی—جس کا مطمحِ نظر ہی عوام کو طویل قطاروں میں کھڑا کر کے اور 'ٹرک کی بتی' کے پیچھے لگا کر اپنے مخصوص طبقاتی مرتبے (Status) سے لطف اندوز ہونا ہو—وہ بھلا کیونکر اس فرسودہ نظام کو بدلنے یا اس میں جدت لانے کا سوچے گی؟
جبکہ یہ محض انتظامی سستی نہیں بلکہ آئینی اور قانونی ذمہ داری (Legal Obligation) سے انحراف بھی ہے۔ ریاست پاکستان کے دستور کے تحت شہریوں کو سہولیات کی فراہمی اور 'گورننس' میں آسانی پیدا کرنا حکومت کا بنیادی فرض ہے۔ قانونِ شہادت (Law of Evidence) اور پبلک ریکارڈز کے اصولوں کے مطابق، جب ایک سرکاری ادارہ اپنے مہر و دستخط کے ساتھ کوئی دستاویز جاری کر دیتا ہے، تو اس کی صحت کی ذمہ داری خود ریاست پر عائد ہوتی ہے۔ طالب علم کو اپنی ہی ڈگری کی تصدیق کے لیے مجبور کرنا 'قانونِ قیاسِ صحت' (Presumption of Correctness) کی نفی ہے۔ مزید برآں، رائٹ ٹو سروسز (Right to Services) اور ڈیجیٹل پاکستان ویژن کے تحت یہ حکومت پر قانونی لازم ہے کہ وہ ٹیکنالوجی کے ذریعے عوام کے وقت اور جان و مال کا تحفظ کرے۔ اس فرسودہ مہر و دستخط کے نظام کو جاری رکھنا نہ صرف انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ ملکی قوانین کی اس روح کے بھی منافی ہے جو شفافیت اور عوامی خدمت کو مقدم رکھتی ہے۔
https://www.facebook.com/share/p/1HBaBqy4Nf/
By Farhan Khaliq Anwer
Advocate Supreme Court Pakistan
duaapk@hotmail.com


Comments
Post a Comment