📎📎⚖️👍💤 Issue of law, law fields, Aam Aadm, policing, measures to maintain public order, enforce laws, ensure community safety قانون کا توازن یا عوامی عذاب؟ غیر

جب قانون نافذ کرنے والے ادارے سیکورٹی اور امن و امان کے نام پر غیر متوازن اور ظالمانہ طریقے اپناتے ہیں، تو قانون کی بالادستی ایک عوام کے لئے انتظامی ہراسانی بنا دی جاتی ہے۔

پاکستان کے بڑے شہروں، بالخصوص کراچی جیسے گنجان آباد میٹروپولیٹن میں، کسی بھی ممکنہ احتجاج کو رکنے اور امن و امان بحالی کے نام پر پولیس سڑک پر چلتے ہوئے سامان بردار کنٹینرز، ٹرکس اور ٹرالرز کو جبراً روک لیتی ہے۔ ڈرائیوروں کو غیر قانونی طور پر تحویل میں لے کر ان کی گاڑیوں کو سڑکوں پر آڑ بنا کر ، تا ھکم ثانی افسران بالا، کھڑا کر روڈ بند کر دیا جاتا ہے۔

ان غیر قانونی بلاکیڈز کی وجہ سے ایم اے جناح روڈ جیسی مرکزی شاہراہوں کے ساتھ ساتھ ان گلیوں کے راستے بھی مکمل طور پر بند ہو جاتے ہیں جہاں ہزاروں خاندان آباد ہیں۔

یہ معاملہ انتظامی لاپروائی اور آئینی حدود کی تجاوز کی ایک بدترین مثال بن چکا ہے۔ یہ اقدام شہریوں کے روز مرہ معمولات کو مفلوج کر دیتا ہے، جہاں نہ تو ایمرجنسی طبی سہولیات تک رسائی ممکن رہتی ہے اور نہ ہی لوگ اپنے روزگار یا اپنے گھروں واپس جا سکتے ہیں، گھنٹوں تریفک جام ہو جاتا ہے۔

گو کہ یہ آئینِ پاکستان کے تحت شہریوں کو ملنے والے بنیادی حقوق یعنی آرٹیکل ۱۵ (آزادیِ نقل و حرکت)، آرٹیکل ۱۸ (تجارت و روزگار کی آزادی)، آرٹیکل ۹ (شہری کی زندگی کا تحفظ) کی خلاف ورزی ہے۔ لیکن اس مسئلے کا سب سے تلخ پہلو انتظامیہ اور عدلیہ کی دہرے معیار پر مبنی خاموشی ہے۔

ایک طرف جہاں "عام آدمی" گھنٹوں ٹریفک میں محصور رہتا ہے، روزگار سے محروم ہوتا ہے اور ایمرجنسی میں سسکتا ہے، وہیں وی آئی پی (VIP) نقل و حرکت کے لیے تمام راستے کھلے رکھے جاتے ہیں۔ اعلیٰ حکام اور عدلیہ کی جانب سے مقامی انتظامیہ کی اس من مانی پر کوئی جواب دہ نہ بنانا اس نظام کی عدم توجہی کو ظاہر کرتا ہے۔

قانون کی حکمرانی اور عوام کا پولیس پر اعتماد بحال کرنے کے لیے پاکستان کے عدالتی اور انتظامی اداروں کو ان ظالمانہ طریقوں کا فوری خاتمہ کرنا ہو گا۔ جدید پولیسنگ کے لیے سمارٹ کراؤڈ مینجمنٹ (Crowd Management)، ڈیٹا اور حکمتِ عملی پر مبنی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے، نہ کہ پورے شہر کو یرغمال بنا کر مفلوج کر دینے کی۔

جب تک ریاست یہ تسلیم نہیں کرتی کہ آئینی حقوق کی قربانی دے کر امن و امان قائم نہیں کیا جا سکتا، تب تک عوام اور انتظامیہ کے درمیان یہ خلیج اور غم و غصہ بڑھتا ہی رہے گا۔

https://www.facebook.com/share/v/1FG6bdRhs4/


Comments

Popular posts from this blog

ROZNAMCHA - POLICE DAILY DIARY

APPLICATION UNDER SECTION 15 OF SINDH RENTED PREMISES ORDINANCE - 1979

PROPOSED PROFORMA FOR FILING EXECUTION APPLICATION IN FAMILY CASE