📎📎⚖️👍💤 Issue of law, law fields, Aam Aadm, sanctity of the legal profession, systemic accountability, justice system & Great Pakistan.
وکلا گردی کو ختم کرنے کے ساتھ ساتھ، الفاظ سے عمل تک, بلاتاخیر اور یکساں انصاف,کی فراہمی ہی عوام کا نظامِ عدل پر حقیقی اعتماد بحال کر سکتا ہے۔
The recent address by the Chief Justice of the Sindh High Court, Mr. Justice Zafar Ahmed Rajpoot, is deeply commendable for its strong emphasis on professional dignity, the sanctity of the legal profession, and systemic accountability.
However, to make this vision truly meaningful, the Chief Justice should ensure that policies for delivering justice effectively cascade down to the lower forums and district courts.
کراچی کے سٹی کورٹس کی مثال لیں جہاں سو سے زائد عدالتیں کام کر رہی ہیں؛ یہاں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ عارضی ریلیف دینے کے لیے بھی یکساں قوانین پر عمل کرنے کے بجائے ہر جج اپنی صوابدید اور مرضی سے فیصلہ کرتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایک جیسے معاملات کو ہر عدالت میں مختلف طریقوں سے نمٹایا جاتا ہے، جس سے یوں لگتا ہے جیسے ہر عدالت کا اپنا الگ قانون ہو۔ یہ صورتحال انصاف کے طلبگار عام شہریوں کے لیے سخت پریشانی اور الجھن کا باعث بنتی ہے۔ خصوصاً جب ایک ہی عدالت میں ضابطہ فوجداری کی دفعہ 22-A/22-B کے تحت دائر درخواستوں پر بالآخر یہی حکم جاری ہونا ہوتا ہے کہ:
"SHO is directed to record statement of complainant and to lodge FIR if cognizable offence is made out."
اس کے باوجود کسی عدالت میں یہ معاملہ ہفتے دس دن میں طے ہو جاتا ہے، تو کسی عدالت میں مہینوں تک لٹکا رہتا ہے۔ یہ صورتحال انتظامی پالیسیوں میں فوری اور شدید اصلاحات کی ضرورت کو ظاہر کرتی ہے۔
آخر کیوں نہ ایک ایسی اسٹینڈرڈ پالیسی نافذ کر دی جائے کہ جیسے ہی یہ پٹیشن عدالت میں آئے، وہ مقررہ فارمیٹ کے مطابق آرڈر جاری کر کے اگلے دو دنوں میں معاملہ نمٹا دے؟
اس کی ایک بہترین مثال سابقہ ڈسٹرکٹ جج ظفراحمدشیروانی صاحب کے دورِ ملازمت کی ہے؛ جب وہ کراچی ایسٹ میں تعینات تھے، تو انہوں نے اپنے ڈسٹرکٹ کے لیے ایک بہترین پالیسی یہ بھی وضع کر رکھی تھی۔ جیسے ہی ان کے سامنے اس نوعیت کی پٹیشن آتی، وہ ایس ایچ او کو ڈائریکٹ شوکازنوٹس (Show-Cause Notice) جاری کر دیتے کہ:
"آپ قانون کے تحت شکایت کنندہ کا بیان ریکارڈ کرنے کے پابند ہیں، بصورتِ دیگر عمل درآمد نہ کرنے پر کیوں نہ آپ کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے؟"
اس کا نتیجہ یہ نکلتا کہ ایس ایچ او اگلی ہی تاریخ پر تمام کیسوں میں قانون کے مطابق بیان ریکارڈ کر کے رپورٹ پیش کر دیتا اور مقدمے کو قابلِ دست اندازی (Cognizable) یا نا قابلِ دست اندازی (Non-Cognizable) قرار دے کر کارروائی مکمل کر لیتا۔ اس سے عوام کو موقع پر ہی انصاف ہوتا دکھائی دیتا تھا۔
Therefore, the Chief Justice of the Sindh High Court, Mr. Justice Zafar Ahmed Rajput, is requested to issue like this public directives standardizing procedures and enforcing a 48-hour timeline, as first step for 22-A/22-B CrPC petitions across all district courts.
No doubt, streamlining these processes step-by-step for all miscellaneous applications, interim relief, or petty matters will ensure swift, humane, and efficient justice on the ground.
https://www.facebook.com/share/v/1F32icvP1m/

Comments
Post a Comment