📎📎📎⚖️👍 Issue of law, law fields, Judicial Delays, Police Encounters, Public Distrust, Self-Help, Vigilantism, rule of law & Great Pakistan.

 

یہ ویڈیو عدالت سے ضمانت خارج ہوتے ہی غصے میں بھرے وکلاء کی جانب سے سابق ایس ایچ او حسن عمران اور اس کے ساتھی مجرم پولیس ٹیم کے اہلکاروں پر غیض و غزب کو دکھا رہی ہے، جن پر وکیل کے بھائی کے ناحق قتل کا الزام ہے۔ یہ واقعہ افسران کے غیر قانونی احکامات ماننے اور ماورائے عدالت قتل کرنے والے اہلکاروں کے لیے ایک سبق ہے۔ کیونکہ حکم دینے والے اعلیٰ افسران اکثر آگے نکل جاتے ہیں، جبکہ عمل درآمد کرنے والے پیادے بالآخر دنیا کی رسوائی اور اللہ کے عذاب کی گرفت میں آ ہی جاتے ہیں۔

یعنی 2024ء میں ایک وکیل کے بھائی کو بلاجواز گرفتار کر کے، ایک ہی دن میں چار جھوٹے مقدمات درج کرنے اور مبینہ جعلی پولیس مقابلے (سی سی ڈی) میں قتل کرنے والی پولیس ٹیم تقریباً دو سال بعد آج احاطہ عدالت میں ضمانت منسوخ ہوتے ہی پولیس کی بھاری تعداد میں موجودگی بھی شدید مار پیٹ نہ روک سکی۔

The bureaucracy secures promotions and slips away, while the pawns who carry out extrajudicial killings to seek favor fall from the noble duty of bringing criminals to justice and become offenders facing capital punishment themselves, in the eyes of the law.

​کسی بھی جدید ریاست کی بنیاد اس کے قانونی اور معاشرتی معاہدے پر ہوتی ہے، جس کے تحت شہری ذاتی انتقام اور قانون ہاتھ میں لینے سے دستبردار ہو کر ریاست کو انصاف کا واحد اختیار دیتے ہیں۔ تاہم، پاکستان میں یہ بنیادی معاہدہ نظامِ عدل و انصاف کی اندرونی ناکامی اور ریاست کی ساخت میں پیدا ہونے والے بگاڑ کے باعث شدید بحران کا شکار ہے۔

​ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے مطابق، 2025ء کے ابتدائی 8 ماہ میں 670 مقابلوں میں 924 سے زائد ملزمان مارے گئے,جن کی اکثریت ڈکیتی، مسلح چوری اور قتل کے مقدمات میں نامزد تھی,جبکہ صرف 2 پولیس اہلکار ہلاک ہوئے۔ یہ اعداد و شمار اس عام تاثر کو تقویت دیتے ہیں کہ یہ مقابلے یکطرفہ تھے، جن کے ذریعے حکم دینے والے اعلیٰ افسران ترقیاں حاصل کر گئے جبکہ عمل درآمد کرنے والے پیادے جرم کو ختم کرنے کے اپنے اصل منصب سے گر کر خود مجرم بن گئے۔

حاصل کلام یہ ہے کہ اگر پاکستان کو ایک عظیم اور مستحکم ریاست بنانا ہے، تو ریاست کو ماورائے عدالت طریقوں اور جعلی مقابلوں کی اس پالیسی کا فوری خاتمہ کرنا ہوگا۔ حکومت اور عدلیہ کو بنیادی اصلاحات کے ذریعے بلا تفریق اور بروقت انصاف کی فراہمی یقینی بنانی ہوگی—خواہ جرم عام آدمی کرے یا پولیس—تاکہ عوام کا عدالتی نظام پر اعتماد بحال ہو، خود ساختہ انصاف (Vigilantism) کا خاتمہ ممکن ہو سکے اور قانون کی بالادستی کا قائم کردہ معاشرتی معاہدہ دوبارہ زندہ ہو سکے۔

​کسی بھی جدید ریاست کی بنیاد اس کے قانونی اور معاشرتی معاہدے پر ہوتی ہے، جس کے تحت شہری ذاتی انتقام اور قانون ہاتھ میں لینے سے دستبردار ہو کر ریاست کو انصاف کا واحد اختیار دیتے ہیں۔ تاہم، پاکستان میں یہ بنیادی معاہدہ شاید نظامِ عدل و انصاف کی اندرونی ناکامی یا عدالتی سربراہان کی ریاست مشینری کا مراعات یافتہ طیقہ کا حصہ بن جانے کی وجہ سے شدید بحران کا شکار ہے۔

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے مطابق، 2025ء کے ابتدائی 8 ماہ میں 670 مقابلوں میں 924 سے زائد ملزمان مارے گئے—جن کی اکثریت ڈکیتی، مسلح چوری اور قتل کے مقدمات میں نامزد تھی—جبکہ صرف 2 پولیس اہلکار ہلاک ہوئے؛ جو عام تاثر کی مطابق اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہ مقابلے یکطرفہ تھے، جن کے ذریعے حکم دینے والے اعلیٰ افسران ترقیاں حاصل کر گئے جبکہ عمل درآمد کرنے والے پیادے جرم کو گرفت میں لا کر سزا دلوانے کے فرض کے منصب سے نیچے گر کر خود مجرم بن چکے۔

پاکستان کو ایک عظیم اور مستحکم ریاست بنانا کے لئے۔ ریاست کو ماورائے عدالت طریقوں کا خاتمہ کر کے عدالتی اصلاحات کے ذریعے بلا تفریق اور بروقت انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانا ہوگا، خواہ جرم عام آدمی کرے یا پولیس، تاکہ معاشرتی معاہدہ بحال ہو سکے اور قانون کا احترام قائم رہے۔

https://www.facebook.com/share/v/1C4tAzF8vZ/

Comments

Popular posts from this blog

ROZNAMCHA - POLICE DAILY DIARY

APPLICATION UNDER SECTION 15 OF SINDH RENTED PREMISES ORDINANCE - 1979

PROPOSED PROFORMA FOR FILING EXECUTION APPLICATION IN FAMILY CASE