📎📎📎⚖️👍 Issue of law, law fields, extra judicial kiling, accusation over Investigation officer, murder of judicial justice system, police & Great Pakistan.
سرجانی ٹاؤن کرچی میں ماں اور تین بچوں کے قتل کا ملزم اور کھنائونے جرم میں مستحق سزاواد کو ہمارے ہاں رائج عدالٹ اور عدالتی نطام کے ساتھ پولیس مقابلے میں ہلاک، کر دفن کر دینے کی تازہ مثال خبروں میں زیر گردش ہے۔۔
کہا جا رہا ہے کہ ملزم کو آلۂ قتل، سریا، کی نشاندہی اور برآمدگی کے لیے پولیس حراست میں جائے وقوعہ پر لے جایا گیا تھا۔ افسران اور اہلکار آلۂ قتل تلاش کر رہے تھے کہ ملزم نے موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک پولیس اہلکار سے پستول چھین لیا اور فرار ہونے کی کوشش کی اور ملزم نے چھینے گئے پستول سے فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں اے ایس آئی نعمان شیخ گولی لگنے سے زخمی ہوگئے پولیس کی جوابی فائرنگ میں مبینہ ملزم محمد ہمایوں خان ولد حسن خان موقع پر ہلاک ہوگیا۔۔
جب پولیس خود ہی مدعی، منصف اور جلاد کا کردار ادا کرنے لگے، تو اسے ریاست کے تینوں ستونوں—عدلیہ، مقننہ اور انتظامیہ کے قتل کے مترادف دیکھا جانا چاہیے۔ یہ حقیقت ہے کہ ہمارا نظامِ عدل تاخیر، ناکارہ نظامِ شہادت، رشوت ستانی اور عوامی اعتماد کی کمی جیسی دلدل میں جکڑا ہوا ہے۔ لیکن اس کے باوجود، ماورائے عدالت قتل کا طریقہ کار معاشرے کے لیے ایک مہلک ناسور ہے۔
پولیس مقابلے عارضی اور ظاہری تسکین تو دے سکتے ہیں، مگر ایک محفوظ، منظم اور قانون پسند معاشرہ ہرگز تشکیل نہیں دے سکتے۔ جس طرح چار افراد اور بچوں کے لرزہ خیز قتل کے مرکزی ملزم کے خلاف تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 302 کے تحت ایف آئی آر درج کر کے شفاف عدالتی تفتیش کے بعد سزا کا مطالبہ کیا جا رہا تھا، بالکل اسی طرح اب صورتِ حال یہ تقاضا کرتی ہے کہ مبینہ پولیس مقابلے میں ملوث تفتیشی افسر اور زخمی اہلکار کے خلاف بھی دفعہ 302 کے تحت ہی مقدمہ درج کیا جائے اور آئین و قانون کے مطابق غیر جانبدارانہ تفتیش کے بعد حتمی سزا دی جائے۔ کیونکہ۔۔۔
👈انصاف کا لباس تب تک پاک نہیں ہو سکتا، جب تک قانون کی حاکمیت کا ترازو مجرم اور پولیس کے لیے ایک جیسا نہ ہو۔💤
سندھ میں پولیس مقابلوں اور ماورائے عدالت ہلاکتوں کا شمار کسی ایک سرکاری دفتر کی جانب سے ایک ہی جگہ پر شائع نہیں کیا جاتا، لیکن انسانی حقوق کے اداروں (HRCP) اور سندھ پولیس کے محکماتی ریکارڈز کے مطابق سال 2026ء کے اب تک کے مہینوں (جنوری تا ستمبر 2026ء) میں صوبہ سندھ (خصوصاً کراچی اور بالائی سندھ کے اضلاع) میں مختلف نوعیت کے 1,200 سے 1,500 کے درمیان پولیس مقابلے ریکارڈ یا رپورٹ ہوئے ہیں۔ ان مقابلوں اور آپریشنز کے نتیجے میں 90 سے 120 کے قریب مشتبہ افراد ہلاک ہوئے، جبکہ 700 سے زائد مشتبہ ملزمان زخمی حالت میں یا مقابلے کے بعد گرفتار دکھائے گئے ہیں۔
https://www.facebook.com/share/v/1HUZ6DdwFg/
Comments
Post a Comment