📎📎📎⚖️👍 Issue of law, law fields, extra judicial killing, accusation over Investigation officer, murder justice system, police & Great Pakistan.


​پنجاب جہلم میں پانچ روز قبل تین کم سن بچوں کو نہر میں پھینک کر قتل کرنے والے ملزم اور اس مکروہ و گھناؤنے جرم کے مستحقِ سزا فاعل اندھا دھند فائرنگ سے ہلاک ہو جانے کی تازہ مثال خبروں کی زینت بنی ہوئی ہے۔

حسبِ روایت کہا جا رہا ہے کہ زیرِ حراست ملزم ذیشان کو تفتیش اور نشاندہی کے لیے راٹھیاں کے قریب لے جایا جا رہا تھا کہ اس کے مسلح ساتھیوں نے اسے چھڑوانے کے لیے پولیس پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ پولیس کے مطابق جوابی کارروائی کے دوران ملزم ذیشان اپنے ہی ساتھیوں کی گولیوں کا نشانہ بن کر موقع پر ہی ہلاک ہو گیا، جبکہ فائرنگ کرنے والے نامعلوم ساتھی اندھیرے یا موقع کا فائدہ اٹھا کر فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

تواتر کے ساتھ اسی پیٹرن کے ذریعے سرزد ہونے والے واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ جب پولیس خود ہی مدعی، منصف اور جلاد کا کردار ادا کرنے لگے، تو اسے ریاست کے تینوں ستونوں عدلیہ، مقننہ اور انتظامیہ کے قتل کے مترادف دیکھا جانا چاہیے۔ یہ حقیقت ہے کہ ہمارا نظامِ عدل تاخیر، ناکارہ نظامِ شہادت، رشوت ستانی اور عوامی اعتماد کی کمی جیسے سنگین مسائل کا شکار ہے۔ لیکن اس کے باوجود، ماورائے عدالت قتل کا یہ طریقہ کار قانون اور آئین کے لیے ایک مہلک اور خطرناک ناسور بن چکا ہے۔

​پولیس مقابلے وقتی طور پر عوامی جذبات کو تسکین تو دے سکتے ہیں، مگر ایک محفوظ، منظم اور آئین پسند معاشرہ ہرگز تشکیل نہیں دے سکتے۔ جس طرح معصوم بچوں کے اس لرزہ خیز قتل کے ملزم کے خلاف شفاف عدالتی کارروائی اور کڑی سزا کا مطالبہ کیا جا رہا تھا، بالکل اسی طرح قانون کا تقاضا ہے کہ مبینہ پولیس مقابلے میں ملوث تفتیشی افسران اور اہلکاروں کے خلاف بھی غیر جانبدارانہ تفتیش کی جائے تاکہ قانون کی حاکمیت قائم رہ سکے۔

👈انصاف کا لباس تب تک پاک نہیں ہو سکتا، جب تک قانون کی حاکمیت کا ترازو مجرم اور پولیس دونوں کے لیے ایک جیسا نہ ہو۔💤

​پاکستان میں پولیس مقابلوں اور ماورائے عدالت ہلاکتوں کے تمام اعداد و شمار کسی ایک ہی جگہ یکجا شائع نہیں ہوتے، تاہم انسانی حقوق کے اداروں (HRCP) اور مختلف محکماتی اور صحافتی رپورٹوں کے مطابق ہر سال ملک بھر میں سینکڑوں ملزمان کو پولیس مقابلوں میں ہلاک کیا جاتا ہے، جس سے قانون کے نفاذ اور شفاف نظامِ انصاف پر گہرے سوالات اٹھتے ہیں۔

https://www.facebook.com/share/p/19PowiqrTy/


Comments

Popular posts from this blog

ROZNAMCHA - POLICE DAILY DIARY

APPLICATION UNDER SECTION 15 OF SINDH RENTED PREMISES ORDINANCE - 1979

PROPOSED PROFORMA FOR FILING EXECUTION APPLICATION IN FAMILY CASE