📎📎📎⚖️👍 Issue of law, law fields, rule of law, human rights, administration of justice across the Sindh province & Great Pakistan.
"سندھ کنٹرول آف نارکوٹک سبسٹنسز ایکٹ 2024ء (SCNSA) کے تحت درج مقدمات سے پیدا شدہ عدالتی جمود کے خاتمے اور قانونی بالا دستی کی بحالی کے لیے عزت مآب چیف جسٹس ظفر احمد راجپوت کی فوری مداخلت محض ایک تجویز نہیں، بلکہ وقت کی شدید ترین ضرورت ہے۔"
سندھ کنٹرول آف نارکوٹک سبسٹنسز ایکٹ 2024 (SCNSA 2024) کے نفاذ کے بعد سے نوٹیفائیڈ اور فعال سپیشل کورٹس کے قیام میں حکومت کی ناکامی کی وجہ سے کیسوں کی سماعت کے بجائے کاغذی کارروائیوں کا طوفان برپا ہے۔ صوبے بھر میں فوجداری نظامِ عدل شدید انتظامی و عدالتی بحران کا شکار ہو چکا ہے، کیونکہ سندھ ہائی کورٹ نے حفیظ اللہ لاشاری بنام صوبہ سندھ و دیگر (2026 PCrLJ 1068) کے تحت یہ عبوری اصول طے کیا ہے کہ جب تک مخصوص سپیشل کورٹس قائم نہیں ہو جاتیں، اس ایکٹ کے تحت درج مقدمات کی سماعت اور ضمانت کی درخواستوں کا اختیارِ سماعت صرف پرائمری ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز کو حاصل ہے جبکہ ایڈیشنل سیشن ججز (ADJs) اس سے مکمل طور پر محروم ہیں۔
حالانکہ یہ پابندی ضابطہ فوجداری (CrPC) کی دفعہ 9(3) اور دفعہ 31(2) کی صریح خلاف ورزی ہے جن کے تحت ایڈیشنل سیشن ججز کو سیشن جج کے برابر تمام عدالتی اختیارات اور قانون کے مطابق مقدمات کی سماعت، ضمانت اور سزا دینے کا باضابطہ اختیار حاصل ہوتا ہے، اور یہ طریقہ کار فوجداری نظامِ انصاف میں تمام ADJs پر مشتمل "Court of Session" کے بنیادی فریم ورک اور عدالتی روایت کے بھی صریح منافی ہے۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے بلا تفریق ایف آئی آرز کے اندراج اور بنیادی انفراسٹرکچر کے بغیر اس قانون کے نفاذ کی وجہ سے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز پر عدالتی و انتظامی بوجھ کے باعث نظام مفلوج ہو کر رہ گیا ہے، جبکہ ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے بعد ADJs کے پاس کیے گئے متعدد سابقہ احکامات، ضمانتیں اور کارروائیاں دائرہ اختیار کے نقص کے باعث کالعدم قرار دیے جانے سے کیسوں کی سماعت کے بجائے کاغذی کارروائیوں کا طوفان برپا ہے اور ہزاروں انڈر ٹرائل ملزمان ضمانت اور منصفانہ ٹرائل کے آئینی حق سے محروم ہو کر گنجائش سے زیادہ بھری جیلوں میں سڑنے پر مجبور ہیں۔
اس روز بروز بڑھتے ہوئے الجھاؤ، دائرہ اختیار کے تنازعات اور انسانی حقوق کی پامالی کا سدِباب کرنے کے لیے چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ، جناب جسٹس ظفر احمد راجپوت سے فوری انتظامی و عدالتی مداخلت کی اپیل کی جاتی ہے۔ صوبائی حکومت جب چاہے مستقبل میں ایف آئی آرز کے اندراج کے لیے SCNSA 2024 کے تحت باقاعدہ سپیشل کورٹس کا نوٹیفکیشن جاری کرتی رہے گی۔ لیکن سال 2024 سے اب تک جیلوں میں SCNSA 2024 کے تحت قید لوگوں کو مزید تاخیر اور زیادتی سے بچانے کے لیے منصفانہ اور سپیڈی ٹرائلز کے لئے ہنگامی اقدامات کیے جائیں، کیونکہ ہمارے ہاں یہ رواج ہے کہ ایک واقعی سچے ملزم کے ساتھ دو بے گناہ افراد کو بھی ملوث کر دیا جاتا ہے۔ اس ناقص طریقہ کار اور تعطل کے باعث نہ صرف وہ بےگناہ شہری بغیر کسی جرم کے سالہا سال قیدو۔بند کی صعوبتیں جھیلنے پر مجبور ہیں، بلکہ انکے مظلوم خاندان بھی سماجی، معاشی اور نفسیاتی تباہی کا شکار ہو رہے ہیں۔لہٰذا، اس عدالتی تعطل کو فوری ختم کر کے بے گناہوں کو انصاف فراہم کرنا اور انکی بلاجواز قید کاخاتمہ کرنا آئینی وانسانی حقوق کے نفاذ کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
https://www.facebook.com/share/p/19WZhYoCc5/

Comments
Post a Comment