📎📎📎⚖️👍 Issue of law, law fields, administrative liability, accountability for negligence, severely beating with sticks & wires to children & Great Pakistan.
ڈپٹی کمشنر راولپنڈی، انتظامی غفلت کے براہِ راست ذمہ دار ہیں بطور چیئرمین ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی و چیئرمین ڈسٹرکٹ سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ۔۔۔۔۔ کہ۔۔۔۔۔ تھانہ کلرسیداں، راولپنڈی کی حدود میں واقع مدرسہ محی الاسلام صدیقیہ (محلہ مسلماناں) کے ۱۱ سالہ طالب علم فیضان علی، قاری ثناءاللہ اورمدرسہ انتظامیہ کے مبینہ وحشیانہ تشدد کے باعث جاں بحق ہو گیا۔
تھانہ کلر سیداں راولپنڈی میں درج FIR نمبر 486/26 (تحت دفعات 302/201 PPC) کے مطابق، 24 اگست 2026ء کو قاری ثناء اللہ نے 11 سالہ فیضان علی کی طبعیت خرابی کا کہہ کر اسے DHQ ہسپتال منتقل کیا، جہاں پہنچنے پر اہلخانہ کو بچے کی موت کا علم ہوا۔ غسل کے وقت جسم پر تشدد کے واضح نشانات دیکھے گئے اور مقتول کے چھوٹے بھائی نے انکشاف کیا کہ قاری ثناء اللہ اور دیگر نے فیضان کو شدید تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد معاملہ چھپانے کی کوشش کی تھی۔
فوجداری کروائی کے ساتھ ساتھ مدرسے کو فوری طور پر سیل کیا جانا اور قانونی تقاضے پورے ہونے تک اسکی رجسٹریشن معطل یامنسوخ کیا جانا، اگر یہ مدرسہ بغیر کسی قانونی رجسٹریشن کے چلایا جا رہا تھا، تو بغیر این او سی (NOC) اور رجسٹریشن کے ادارہ قائم کرنے، معصوم بچوں کورکھنے اوربچوں کےتحفظ کے قوانین (Child Protection Laws) کی شدید خلاف ورزی کرنے پرانتظامیہ کے خلاف الگ سے سخت قانونی وانتظامی کارروائی، انصاف کابنیادی تقاضا ہے تاکہ مستقبل کے لیے ایک مثال قائم ہو سکے۔
پچھلے تین سالوں کے دوران سامنے آنے والے اس نوعیت کے چند نمایاں اور دردناک واقعات درج ذیل ہے:
1. لالہ موسیٰ، گجرات (ستمبر 2023ء)
واقعہ: لالہ موسیٰ کے ایک مدرسے میں 10 سالہ بچے کو قاری اور انتظامیہ کی جانب سے مبینہ طور پر شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں بچہ شدید زخمی ہوا اور بعد میں دم توڑ گیا۔
2. کراچی، سندھ (فروری 2024ء)
واقعہ: کراچی کے علاقے منگھوپیر کے ایک مدرسے میں 8 سالہ طالب علم کو سبق یاد نہ کرنے پر قاری نے تشدد کا نشانہ بنایا۔ بچے کو شدید زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہو گیا۔
3. ملتان، پنجاب (نومبر 2024ء)
واقعہ: ملتان کے ایک نواحی علاقے میں قائم مدرسے میں حفظ کرنے والے 12 سالہ بچے کو قاری نے چھڑیوں اور تاروں سے شدید پیٹا۔ بچے کی حالت غیر ہونے پر اسے گھر بھیج دیا گیا لیکن وہ ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی فوت ہو گیا۔
Additionally, most other incidents occurred in institutions that were either completely unregistered or free from regular monitoring by the Social Welfare or Education Departments. Although Article 35 of the Constitution of Pakistan guarantees the protection of children and the Child Protection Act is in force in Punjab, these tragedies persist due to the lack of periodic inspections by District Education Authorities and the Social Welfare Department.
In all past cases, the consistent demand from courts and the public has been that criminal action against the teacher alone is insufficient; administrative liability and accountability for failure must also be fixed upon the heads of district administration (DC / Assistant Commissioners) for allowing institutions to operate without NOCs.
https://www.facebook.com/share/r/18XmwU8ocV/

Comments
Post a Comment