📎📎📎⚖️👍 Issue of law, law fields, social justice, local NGOs, small local projects & Great Pakistan.

 



Strict laws shouldn't stop good work، helped by flexible rules, small local projects can easily change lives.


​چولستان میں طلبہ کی جانب سے شروع کیا گیا ’ڈاٹر آف چولستان‘ کا قابل تحسین اقدام یہ ثابت کرتا ہے کہ مقامی سطح کے چھوٹے رضاکارانہ پروجیکٹس پسماندہ علاقوں میں تعلیمی، ماحولیاتی اور سماجی تبدیلی کے لیے کتنے اہم ہیں۔

​لیکن موجودہ پیچیدہ قانونی اور انتظامی نظام نے لوکل این جی اوز اور طلبہ کے اقدامات کے لیے ایک عجیب صورتحال پیدا کر دی ہے، جہاں قانونی راستے سے فلاحی کام کرنا تقریباً ناممکن ہے، اس لیے انفرادی سطح پر فلاحی سرگرمیاں کرنے والے افراد بغیر رجسٹریشن اور بغیر ریگولیشنز کے اپنا کام کرنے پر مجبور ہیں۔

​آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 37 ریاست کو پسماندہ علاقوں میں تعلیم اور سماجی و معاشی انصاف کی فراہمی کا پابند بناتا ہے، اس کے ساتھ ہی آئین کا آرٹیکل 17 شہریوں کو فلاحی اور تعلیمی مقاصد کے لیے متحد ہونے کا بنیادی حق دیتا ہے۔

​تاہم، جب کوئی طالب علم یا چھوٹا گروہ قانونی قاعدے کے مطابق کام کرنا چاہتا ہے، تو سوسائٹیز رجسٹریشن ایکٹ، ٹرسٹ ایکٹ اور سیکیورٹی قوانین کے تحت این او سی (NOC)، نفاذِ قانون کے اداروں کی ویریفکیشن اور بینک اکاؤنٹ کھلوانے کی پیچیدگیاں ان کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ بن جاتی ہیں۔
​
اس نظام کا سب سے غیر متناسب پہلو یہ ہے کہ کروڑوں روپے کے بجٹ والی بین الاقوامی این جی اوز (INGOs) اور مقامی طلبہ کے چھوٹے تعلیمی و ماحولیاتی گروپس پر ایک جیسے رجسٹریشن قوانین اور سخت شرائط لاگو کی جاتی ہیں۔ سادہ اور شفاف اقدامات کے لیے بھی گرانقدر مالیاتی آڈٹ کے تقاضے اور سخت بینکنگ پالیسیاں پرعزم نوجوان رضاکاروں کی حوصلہ شکنی کا باعث بنتی ہیں، جس سے نچلی سطح پر مثبت سماجی کاموں کی رفتار سست پڑ جاتی ہے۔

​ایک مضبوط انصاف کے نظام اور خوشحال پاکستان کی تعبیر کے لیے ضروری ہے کہ حکومت شفافیت برقرار رکھتے ہوئے ان قوانین میں مناسب لچک پیدا کرے۔ مقامی اور نچلی سطح کے پروجیکٹس کے لیے درجہ بدرجہ ریگولیشن (Tiered Regulation)، آن لائن ون ونڈو پورٹل کے ذریعے فوری تصدیق کا نظام، اور مائیکرو فلاحی بینکنگ سہولیات متعارف کرائی جانی چاہئیں۔

​سول سوسائٹی کے ان مثبت اقدامات کو قانونی تحفظ اور حکومتی تعاون فراہم کر کے ہی چولستان جیسے علاقوں میں بچیوں کی تعلیم، درخت کاری اور ڈیجیٹل صلاحیتوں کی فراہمی جیسے اہم مسائل کا پائیدار حل ممکن بنایا جا سکتا ہے۔


https://www.facebook.com/share/v/1TP8f86FCa/

Comments

Popular posts from this blog

ROZNAMCHA - POLICE DAILY DIARY

APPLICATION UNDER SECTION 15 OF SINDH RENTED PREMISES ORDINANCE - 1979

PROPOSED PROFORMA FOR FILING EXECUTION APPLICATION IN FAMILY CASE