📎📎📎⚖️👍 Issue of law, law fields, social justice, freedom of religion, Mosques & Great Pakistan.
Structuring a transparent, modern framework for mosques under Articles 20, 31, and 227 is a vital constitutional imperative for Pakistan's progress.
یہ ویڈیو کلپ دنیا کی خوبصورت مساجد اور ان کے نظم نسق کا منظر پیش کرتا ہے۔ پاکستان بھی ایک اسلامی جمہوریہ ہے جہاں کی 99 فیصد آبادی مسلمان ہے اور آئین کا بنیادی نظریہ بھی اسلامی اصولوں سے ہم آہنگ ہے، تاہم مساجد کی تعمیر، رجسٹریشن اور نظم و نسق کو چلانے کے لیے کوئی ایک واحد یا یکطرفہ وفاقی قانون موجود نہیں ہے۔
نئی مسجد بنانے کے لیے ایک جامع عمل کی پیروی کی جاتی ہے جس میں سب سے پہلے زمین کی قانونی ملکیت یا باقاعدہ رجسٹرڈ وقف نامہ فراہم کیا جاتا ہے، جس کے بعد متعلقہ شہر کی ڈویلپمنٹ اتھارٹی یا میونسپل کمیٹی سے زمین کے استعمال کی تصدیق اور تعمیراتی نقشہ (Building Plan) منظور کروایا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی امن و امان، سیکیورٹی اور کسی بھی فرقہ وارانہ تنازع یا غیر قانونی زمین کے قبضے سے بچنے کے لیے ضلعی انتظامیہ (ڈپٹی کمشنر آفس) اور مقامی پولیس سے این او سی (NOC) حاصل کیا جاتا ہے۔ مزید برآں، مالی شفافیت اور مساجد کے انتظامی امور کی باضابطہ دیکھ بھال کے لیے مسجد کمیٹی یا ٹرسٹ کو سوسائٹیز رجسٹریشن ایکٹ کے تحت رجسٹرڈ کروانا ہوتا ہے، اور تعمیر مکمل ہونے پر مقررہ سیکیورٹی تدابیر، سی سی ٹی وی کیمروں کا انتظام، اور ائمہ و خطباء کی رجسٹریشن کا اندراج مقامی اوقاف یا انتظامی ریکارڈ میں کروایا جاتا ہے۔
جبکہ پیشرفتہ اسلامی ممالک جیسے ترکی، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور ملائیشیا کے فریم ورک کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان میں مساجد کے لیے ایک جامع اور نچلی سطح تک یکساں ریگولیٹری قانون سازی کی ضرورت ہے۔
سب سے پہلے، ملک بھر میں صوبائی اور وفاقی سطح پر ایک مربوط "مسجد و اوقاف ایکٹ" وضع کیا جانا چاہیے جو مختلف اداروں میں بکھرے ہوئے قوانین کو ایک جگہ جمع کرے اور تمام مکاتبِ فکر کے لیے مساجد کی منظوری، رجسٹریشن، اور زمین کی الاٹمنٹ کے لیے ایک شفاف اور خودکار نظام فراہم کرے۔
اس کے علاوہ، ملائیشیا اور ترکی کی طرز پر اربن پلاننگ اور ماسٹر پلاننگ کا قانون نافذ کیا جانا چاہیے جس کے تحت ہر نئی مسجد کی تعمیر میں جدید سہولیات کو لازمی قرار دیا جائے۔ اس میں خواتین کے لیے علیحدہ اور باوقار نماز گاہ، معذور افراد کے لیے ریمپ، بین الاقوامی معیار کا سیکیورٹی اور فائرفائٹنگ نظام، اور ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے کے لیے سولر انرجی کے استعمال کے قانونی ضوابط شامل ہونے چاہئیں۔
مزید برآں، ائمہ اور خطباء کی پیشہ ورانہ اہلیت، لائسنسنگ اور معاشی تحفظ سے متعلق قانون سازی انتہائی ضروری ہے۔ خلیجی ممالک کی طرز پر ائمہ کے لیے ایچ ای سی اور وفاق المدارس کی تسلیم شدہ ڈگری کے ساتھ باقاعدہ سرکاری سرٹیفیکیشن لازمی کی جائے، اور ساتھ ہی ان کے بنیادی حقوق یعنی کم از کم مقررہ سرکاری تنخواہ، ہیلتھ انشورنس اور اولڈ ایج بینیفٹس کی قانونی ضمانت دی جائے تاکہ ان کا معاشی استحصال ختم ہو سکے۔
آخری مرحلے میں صوتی آلودگی اور مالیاتی شفافیت کے لیے سخت قوانین کا نفاذ لازمی ہے۔ ساؤنڈ سسٹم کے استعمال اور ڈیسیبل لیول کی حد مقرر کرنے کے لیے واضح قانون سازی کی جائے تاکہ بیرونی اسپیکرز کے بے جا استعمال کو روکا جا سکے۔ ساتھ ہی، ہر مسجد کے لیئے باقاعدہ رجسٹرڈ بینک اکاؤنٹ رکھنا اور سالانہ ڈیجیٹل آڈٹ کروانا قانوناً لازمی قرار دیا جائے تاکہ مالی امور میں مکمل شفافیت کو یقینی بنایا جاسکے۔
Under the Constitution of Pakistan, Article 227 mandates that all existing laws shall be brought into conformity with the Injunctions of Islam as laid down in the Holy Quran and Sunnah. Article 20 guarantees every citizen the fundamental right to profess, practice, and propagate their religion, while Article 31 enjoins the State to enable Muslims to order their lives in accordance with Islamic principles. Therefore, framing structured, modern, and transparent legal frameworks for mosques aligns fully with the constitutional mandate of Pakistan.
https://www.facebook.com/share/v/1HHZ77L5vg/

Comments
Post a Comment